آزاذی اظہار رائے اور اسلام آج کل اسلام کے خلاف لبرل طبقات ، کفار اور خاص کر تنظیمات آزادی نسواں یہ بات کہتی عام نظر آتی ہیں کہ اسلام آزادی اظہار رائے کا حق نہیں دیتا اور ایک جبر و زیادتی کے نظام کو ترقی دیتا ہے ۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ان کا اعتراض کیا واقعی حق پر مبنی ہے ؟ یا ان کا مقصد صرف عام اور سادہ لوح مسلمانوں کو ، جن کو خود اپنے اسلام کا تعارف نہیں، اپنی باتوں میں پھسلا کر اسلام کے خلاف ہی ان مسلمانوں کو استعمال کرنا ہے؟ آج سے چودہ سو سال پہلے کی بات کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس وقت معاشرے میں کیا نظام رائج تھا اور وہاں آزادی اظہارِ رائے موجود تھی یا نہیں؟ ارے ارے ! رکیے ذرا ، ذرا ٹھہرئیے ۔ اب یہاں یہ اعتراض مت کیجیے گا کہ چودہ سو سال پہلے کی بات کیوں کرتے ہیں آپ؟۔ اور یہ یاد رکھیے کہ اس دنیا میں جب بھی کوئی فیصلہ موجودہ حالات کے متعلق کرنا ہو تو تاریخ ہمیں بہتر سے بہتر لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد دیتی ہے اور ان عناصر سے ہمیں روشناس کرواتی ہے کہ جو ہمیں آگے چل کر پیش آسکتے ہیں اور صرف یہی ہی نہیں بلکہ یہ بھی بتا سکتی ہے کہ پریشان کن حالات میں کس قسم کے دا...