Posts

Showing posts from October, 2018

کاٹ ، کہ نیام سے آزاد ہے تُو

عنوان : کاٹ ، کہ نیام سے آزاد ہے تو مصنف : عمار نعیمی " آخر کیا ضرورت ہے اس معاشرے کو تلوار کی ؟ اس نے ہمیشہ ناحق خون چاٹا ہے۔ یہ ایک آزاد معاشرے میں دہشت کی علامت ہے۔ لہذا اسے ہمیشہ کے لیے نیام میں بند کرکے بحراوقیانوس میں پھینک دینا چاہیے" " او رزیل قلم ! یہ کیا بکواس کر رہا ہے ؟ ۔"    تلوار ، قلم سے مخاطب ہوئی۔ " بکواس ؟ میں تو  بس حقییقت سے آشکار کر رہا ہوں" ۔  قلم بولا " کیا تجھے میری تیز دھار سے ڈر نہیں لگتا ؟" " سر پہ کفن باندھنے والے موت سے نہیں ڈرتے " " ہاہاہاہا ! بڑی فلمی باتیں کرتا ہے۔ بول، کیا قیمت ہے تیری ؟ کتنے میں بکے گا ؟   تلوار نے اپنی دھار کی چمک سے قلم کو زیر کرنا چاہا۔  " بڑا ناز ہے تجھے اپنی دولت پر۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا، میں وہ قلم نہیں ہوں جو بک جاؤں۔ میں سر فروش ہوں۔ کسی بھول میں مت رہنا۔ تم مجھے حق گوئی سے باز نہیں رکھ سکتے" قلم نے برابر جواب دیا۔ " اچھا ! تو مطلب گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلنے والا " اس کے بعد تلوار نے قلم کو کاٹ کر اس کی روش...