Posts

Showing posts from January, 2021

Adaab e Taziyat or Hamari Zimme Dariya'n

مضمون : تعزیت کرنے کے آداب اور ہماری ذمہ داریاں  مصنف : عمار نعیمی   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی مسلمان کے انتقال پر میت کے متعلقین سے تعزیت کرنا سنت سے ثابت ہے۔ تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کی تدفین سے پہلے یا تدفین کے بعد میت کے گھر والوں کے یہاں جا کر ان کو تسلی دی جائے  ، ان کی دل جوئی ، صبر کی تلقین، ان کے اور میت کے حق میں دعائیہ جملے کہے  جائیں لیکن ہمیں ایسا دیکھنے کو نہیں ملتا ۔ ہمارا یہ معاشرہ دن بہ دن زوال کی جانب گامزن ہے۔ ہم اخلاقی لحاظ سے ایک پست قوم ثابت ہو رہے ہیں اور حد تو یہ آن پہنچی ہے کہ ہمیں تعزیت کے آداب تک بھول چکے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم جب بھی کسی فوتگی والے گھر جائیں تو اپنے ساتھ ایک پانی کی بوتل لازمی لے کر جائیں اور ان لوگوں کو بالکل بھی تنگ نہ کریں کہ ہمیں پانی پلا دیا جائے یا چائے بنا کر پلا دی جائے ۔ ایک طرف ان کا اتنا بڑا نقصان ہوا ہوتا ہے اور ہم لوگ انھیں اس طرح پریشان کر رہے ہوتے ہیں ۔ گھر سے ہمیشہ کھانا کھا کر جانا چاہیے اور فوتگی والے گھر میں بھوکوں کی طرح کھانے کی فرمائش نہیں کرنی چاہیے اور اس بات پر ہرگز نہیں لڑنا چا...
Image
  عنوان : نرم پہاڑ  مصنف : عمارؔ   نعیمی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوں تو وہ پہاڑ وہاں پہلے ہی سے موجود تھے۔ لیکن رفتہ رفتہ ان دونوں پہاڑوں کے مابین فاصلہ کم ہوگیا تھا۔ وہ ایک دوسرے کے نزدیک آگئے تھے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ دونوں حجم میں بھی بڑھ گئے تھے۔ میں چھوٹا تھا ، جب سے ان پہاڑوں کو دیکھ رہا    ہوں ۔   اب میں بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑا ہو گیا ہوں۔ جب سے میں بالغ ہوا ہوں، مجھ میں بہت سی تبدیلیاں آگئی ہیں۔ مطلب   یہ کہ جیسے پہلے میں ان پہاڑوں کو دیکھا کرتا تھا   ، اب میں ویسے نہیں دیکھتا ۔ اب میرے دیکھنے میں   بھی بدلاؤ آگیا ہے ۔ میں ان پہاڑوں میں اب جمالیات تلاش کرتا ہوں ۔ میں جب بھی تنہا ہوتا   ہوں ؛ ان کے بارے میں سوچتا   ہوں    تو مجھے محض دو پہاڑ ہی نظر نہیں آتے بلکہ اب مجھے ان پہاڑوں کی دلنشین   چوٹیاں بھی نظر آتی ہیں ۔ میں ورطہ حیرت   میں ڈوب جاتا ہوں کہ آخر اس سے پہلے یہ جمالیات کیوں ندارد   تھیں۔ یا میری نظر میں وہ کمال نہیں تھا۔ اب تو مجھے ان چوٹیوں پر جمی برف بھی نظر آتی ...

3rd Edition

Image
عنوان  :       تیسرا _ ایڈیشن مصنف  :       عمار نعیمی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ " ماشاءاللہ آپ مصنف ہیں اور ایک کتاب بھی لکھی ہے؛ بہت خوب لیکن آپ کی کتاب کتنی چھپی ہے ؟ " " جی ایک ہزار چھپی ہے۔ " " تو اب تک کتنے ایڈیشن شایع ہو چکے ہیں ؟   " " جی الحمدللہ 3 ایڈیشن شایع چکے ہیں۔ " " وااااہ ، کندھے اچکانا تو بنتا ہے  " " کیوں نہیں ، اپنی ڈیمانڈ ہی بہت ہے " " تو یعنی   3000   لوگ آپ کو جانتے ہیں ؟ " " نہیں جی حلقے کے احباب بھی ہیں ، محلے میں بھی سب جانتے ہیں۔ " " چلیں اندازاً   5000   کر لیتے ہیں ۔ " " جی " ماشاءاللہ تو آپ کو اس بات کا غرور ہے کہ 21 کروڑ کی آبادی میں آپ کو بطور ادیب    5000   لوگ جانتے ہیں۔ اور اسی لیے غرور میں رہتے ہیں اور اینٹھے اینٹھے چلتے ہیں ؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد