Adaab e Taziyat or Hamari Zimme Dariya'n
مضمون : تعزیت کرنے کے آداب اور ہماری ذمہ داریاں مصنف : عمار نعیمی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی مسلمان کے انتقال پر میت کے متعلقین سے تعزیت کرنا سنت سے ثابت ہے۔ تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کی تدفین سے پہلے یا تدفین کے بعد میت کے گھر والوں کے یہاں جا کر ان کو تسلی دی جائے ، ان کی دل جوئی ، صبر کی تلقین، ان کے اور میت کے حق میں دعائیہ جملے کہے جائیں لیکن ہمیں ایسا دیکھنے کو نہیں ملتا ۔ ہمارا یہ معاشرہ دن بہ دن زوال کی جانب گامزن ہے۔ ہم اخلاقی لحاظ سے ایک پست قوم ثابت ہو رہے ہیں اور حد تو یہ آن پہنچی ہے کہ ہمیں تعزیت کے آداب تک بھول چکے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم جب بھی کسی فوتگی والے گھر جائیں تو اپنے ساتھ ایک پانی کی بوتل لازمی لے کر جائیں اور ان لوگوں کو بالکل بھی تنگ نہ کریں کہ ہمیں پانی پلا دیا جائے یا چائے بنا کر پلا دی جائے ۔ ایک طرف ان کا اتنا بڑا نقصان ہوا ہوتا ہے اور ہم لوگ انھیں اس طرح پریشان کر رہے ہوتے ہیں ۔ گھر سے ہمیشہ کھانا کھا کر جانا چاہیے اور فوتگی والے گھر میں بھوکوں کی طرح کھانے کی فرمائش نہیں کرنی چاہیے اور اس بات پر ہرگز نہیں لڑنا چا...