Inter-II

 

GUESS PAPER | URDU | 2nd YEAR | 2023

BY : LECTURER AMMAR NAEEMI

سوال نمبر 1 : معروضی MCQS پر مشتمل ہوتا ہے ۔ لہذا آپ پاسٹ پیپرز سے تیاری کریں ، وہیں سے سوال دہرائے جاتے ہیں ۔

 

سوال نمبر 2 : حصہ نظم : اہم ترین نظمیں برائے تشریح

حمد ،                   نعت ،                 آدمی ،                تغیر ،                  نوجوان سے خطاب

یہ 5 نظمیں مکمل طور پر کرنی ہیں .

نظم نمبر 3 : آخری بند

نظم نمبر 4 : بند نمبر 1 ، 2 ، 3 اور آخری

نظم سراغ راہرو : آخری بند

 

سوال نمبر 2 ( غزل ) : اہم ترین غزلیں

خواجہ میر درد کی پہلی غزل مکمل

غلام ہمدانی مصحفی کی دونوں مکمل

غالب کی پہلی مکمل

غالب کی دوسری غزل شعر نمبر 4،5،6

اقبال کی پہلی غزل مکمل

اقبال کی دوسری غزل پہلے 3 شعر

ناصر کاظمی کی پہلی غزل مکمل

ناصر کاظمی کی دوسری غزل : پہلے 3 اشعار

فراق گورکھپوری : پہلے تین اشعار

تابش دہلوی : شعر نمبر 4،5،6

سوال نمبر 3 : سیاق و سباق کے حوالے سے اہم پیراگراف کی تشریح

سبق نمبر 1 : مناقب عمر بن عبدالعزیز  مکمل

سبق نمبر 2 : تشکیل پاکستان ؛ پہلا اور آخری پیراگراف

سبق نمبر 3 : مکمل

سبق نمبر 4 :

اتفاقاً ایک میدان وسیع میں تختہ پھولوں کا کھلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نے اس باغ میں ا کر قیام کر دیا ۔ Page # 21

عالم کا رنگ بے رنگ دیکھ کر تدبیر اور مشورہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک فرشتہ سیرت بادشاہ تھا ۔ Page # 22

الغرض ہمت اور تحمل ان سب کو جنگلوں اور پہاڑوں میں لے گئے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زمین کو لپٹ گئے ۔ Page # 23

سبق نمبر 5 : طمع ایسی چیز ہے کہ بڑا سیانا آدمی بھی دھوکا کھا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حجن کوئی ٹھگنی نہ ہو
"
Page # 29

سب کچھ خدا نے ان کو دے رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاتھ باندھے کھڑی رہیں ۔
 
page # 27-28

اکبری کو جہیز میں جو کپڑے ملے تھے، ان کا حال سُنیے۔ جب تک ساس کے ساتھ رہیں، ساس دسویں دن نکال کر دھوپ دے دیا کرتی تھیں۔ شروع برسات میں الگ ہو کر رہیں۔ کپڑوں کا صندوق جس کو ٹھٹھری میں جس طرح رکھا گیا تھا۔ تمام برسات گزر گئی، اس کو دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ وہیں اسی طرح رکھ رہا۔ جاڑے کی آمد میں دو لائی کی ضرورت ہوئی تو صندوق کھولا گیا۔ بہت کپڑوں کو دیمک چاٹ گئی تھی۔ چوہوں نے کاٹ کاٹ کر بغارے ڈال دیے تھے۔ Page # 31

سبق نمبر 6 : مکمل

سبق نمبر 8 : ہوائی

 تو صاحب یہ تو ہوائی کا ازدواجی رخ تھا۔ اب تک گرہستن ماں، بیوی، بول رہی تھی۔ لیکن یہ گرہستن ماں بیوی دو وقت بلکہ اگلے دو دن کا اکٹھا کھانا پکا کر ریفریجریٹر میں بھر کر آزادی کا سانس بھی لیتی تھی۔ جگہ جگہ سیر پر خود نکل جاتی تھی۔ لائبریریوں سے گود بھر بھر کر جزائر ہوائی بلکہ سارے بحرالکاہل کے جزائر پر کتابیں لاتی تھی۔ آہستہ آہستہ لوگوں سے ملاقات، پروفیسر صاحبان سے گفتگو، سیاحوں اور طلبہ سے میل جول، بہت اچھا وقت گزرا۔ ہونولولو کے مختلف مدارج ابھرنے شروع ہوئے۔ اس کی ہمہ گوں زندگی کی چاشنی کا چسکا لگ گیا۔ Page # 50

ڈھلتے سورج میں بحرالکاہل کروٹیں بدل رہا تھا اور چاروں طرف زمرد کی آمریت مستحکم ہو چکی تھی ۔ تاجد نظر سبرہ ' یوں احساس ہوا کہ جزیرے اووا ہو میں کہنہ مشق کائنات نئے سرے شباب پر آئی ہے ۔ اس نے ننھے منے رقبے میں فطرت کا ہر رنگ پایا جاتا ہے ۔ سمندر یہاں عمیق تر ہوتا چلا گیا ہے ۔ یہ جنوبی یورپ کے آبی کناروں سے زیادہ نیلا اور چمکیلا ہے ۔ دوپہر کے وقت اس نیلم کی بھڑک آنکھیں خیرہ بکردیتی ہے ۔ میں نے وجدانی حسن میں اس طرح ڈوبے ہوئے ساحؒ بہت کم دیکھے ہیں ۔ Page # 49

ورنہ در حقیقت سپر مارکیٹ ایسی شیطان کی آنت ہے کہ دل چاہتا ہے کہ خود ٹرالی میں لٹک جائیں۔ اس ادارے کی افراط دیکھ کر انسان ایشیا، افریقہ کی بھوک اور قحط بھول جاتا ہے۔ اس جگہ بلا ارادہ اور بلا ضرورت خریداری کرنی پڑتی ہے۔ ہر شے کے پچاس قسمیں اور ہر قسم چھت تک چنی ہوئی۔ ہر دوسرے قدم میں سیل لکھا ہوا۔ اگر نقد نہیں تو ادھار لیجیے۔ سپر مارکیٹ میں جا کر عورت کی آنکھیں اور بٹوے کھل جاتے ہیں۔ Page # 49

غرض یہ کہ اوّل تو قدرت نے اپنے حسن کے لنگر یہاں جاری کردیے تھے ' جو کچھ کمی تھی وہ انسان نے پوری کردی ۔ اس شام ہم گھر کا سارا سودا لینے سپر مارکیٹ گئے ۔ بہت سے صاحبان اس ادارے کو جانتے ہیں لیکن بہت سی میری ہم وطن بہنیں اس کے متعلق جاننا چاہیں گی ۔ تو سنیئے سپر مارکیٹ امریکن سرمایہ داری کا مکمل مظاہر ہ اور امریکن طرز حیات کا بنیاد قلعہ اور اس کی لا محدود افراط کا ذخار ہے ۔ جب سے یہ بروئے زمین بر سر پیکار ہوا ' ننھی ننھی دکانیں اور چھوٹے چھوٹے بساطی پنساری دیوالیہ ہو گئے ۔ یہ سپر مارکیٹ دس بازاروں کا مہا گُرو ہے ۔ Page 3 49

ایسٹ ویسٹ سنٹر اور ہوائی جو یونیورسٹی میں یُوں تو ارضی قربت ہے لیکن ازلی رقابت بھی ہے۔ کسی حد تک یہ رقابت صحب مند بھی ہے۔ امریکہ کے بہترین پروفیسر اور اعلیٰ ذہن سردی گرمی لیکچر کے لیے بلائے جاتے ہیں۔ اس کی جدید عمارات کے سامنے لمبی لمبی موٹریں جو آدھی طلبہ کی اور آدھی پروفیسروں کی ہوتی ہیں، امریکہ کی افراط کا صحیح ثبوت ہیں۔Page # 51

سبق نمبر 9 :مولانا ظفر علی خان

 کتابت کی غلطیاں تو دیکھو ' ایک کالم میں پچاس پچاس غلطیاں اور کتابت کیسی عجیب ہوئی ہے ' کوئی دائرہ بھی تو صحیح نہیں ' غضب خدا کا ' قرآن کی آیت غلط لکھ دی ' اتنا خیال نہ آیا کہ کلام الہی ہے ' ستیا نا س کر دیا اخبار کا ' ان تما کاپیوں کو جلا دو ' ازسر نو اخبار مرتب نہیں ہو سکتا ' اعلان کر دو کہ کل اخبار نہیں نکلے گا ۔ بلاؤ اختر کو ' اختر ! اختر کہاں ہے ؟ کہاں ہے قاضی ؟ قاضی ! بند کر دوجی اخبار کو ! بند کردو ! میں یوں اخبار نہیں نکالنا چاہتا ۔۔۔۔ " بس باتیں شروع۔Page # 57

اب سےکوئی دس سال اُدھر کا ذکر ہے کہ اخبار " نئی دنیا " کے دفتر میں بیٹھا کام کر رہا تھا ۔ اتنےمیں کسی نے آکر کہا کہ " جمیندار صاحب آئے ہیں " میں لنگی باندھے بیٹھا تھا ۔ سر کے بال پریشان ' داڑھی دن کی بڑھی ہوئی ' " جمیندار " کا نام سنتے ہی ہٹر بڑا کے اُٹھا ' پوچھا " کون جمیندار صاحب ؟" وہ بے چارا کچھ کہنے نہ پایا تھا کہ مولا نا شایق احمد عثمانی آئے اور کہنے لگے :" بھئی مولانا ظفر علی خاں آئے ہیں " Page # 54

مولانا جب تک دفتر میں رہتے تھے بڑی چہل پہل رہتی تھی۔ نظم لکھی اور پکار کے کہا کہ ”بلاؤ قاضی کو، بلاؤ اختر کو، کہاں ہے زاہدی، کہاں ہے حسرت؟“ سب جمع ہوئے اور مولانا نے نظم پڑھ کے سنائی اور پھر انھیں نت نئی تجویزیں سوجھتی رہتی تھیں جو دو تین دن کے چرچے میں غائب غلہ ہو جاتی تھیں۔ ہم میں سے کوئی اچھا شعر کہتا یا کوئی اچھا مضمون لکھتا، تو تعریف کر کے دل بڑھاتے اور انعام بھی دیتے۔ ایک مرتبہ راقم نے فکاہات لکھے، بہت خوش ہوئے، بٹوا نکال کے دے دیا اور کہنے لگے: ”اس میں جو کچھ ہے لے لو۔“ لیکن اکثر لوگ پھر بھی دعائیں مانگتے رہتے تھے کہ اللہ کرے مولانا کہیں دور چلے جائیں اور عموماً یہ دعائیں قبول ہی ہوتی تھیں۔  Page # 57

غرض مولانا تشریف لائے اور آتے ہی سائمن کمیشن ہندوستان کی جدید اصلاحات، راؤنڈ ٹیبل کانفرنس اور کامل آزادی کا قِصّہ چھیڑ دیا۔ مولانا شائق احمد عثمانی ان دنوں کانگرس سے باغی ہو چکے تھے اور سائمن کمیشن سے تعاون کے ھامی تھے۔ ان سے اس مسئلے پر بحثیں ریتی تھیں۔Page # 54

سبق نمبر 12 : مولوی نذیر احمد علی گڑھ کے لیے چندہ اگا ہنے کے سلسلے میں بہت کار آمد آدمی تھے ' اس لیے جہاں تک ممکن ہوتا سر سید انھیں اپنے دوروں میں ساتھ رکھتے اور ان سے تقر یریں کراتے ۔ نذیر احمد کی قوت تقریر کے متعلق کہا جاتا تھا کہ انگلستان کا مشہور مقرر برک بھی اُن سے زیادہ مو ثر توریر نہیں کر سکتا تھا ۔ اب بھی اگلے وقتوں کے لوگ ' جنھوں نے مولوی صاحب کے لیکچر سنے ہیں ' کہتے ہیں کہ یا توہم نے ڈپٹی صاحب کو دیکھا یا اب اخیر میں بہادر یار جنگ مرحوم کودیکھا کہ سامعین پر جادو سا کر دیتے اور جو کام ان سے چاہتے لے لیتے۔ جب چاہا انھیں ہنسا دیا اور جب چاہا ان کی جیبیں خالی کرالیں اور عورتوں کے زیور تک اُتر والیا کرتےتھے ۔ ان کی تقریر بہت اعلیٰ اور موثر ہوا کرتی تھی ۔  Page # 79

دلی کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد انھیں کوئی سرکاری ملازمت نہیں ملی تو سخت برہم ہوئے ۔ پر نسپل سے جا کر ایک دن بولے " مجھے سرکاری ملازمت اگر نہیں دی گئی تو اُپلوں کی ڈنڈی کھولوں گا اور اس پر دلی کالج کے سند لگادوں گا " مگر اس کی نو بت نہیں آئی اور انھیں ملازمت مل گئی ۔ Page # 78

مولوی نذیر احمد بڑے غیور آدمی تھے ۔ سسرال والے خاصے مرفہ الحال تھے ' مگر انھوں نے اسے گوارا نہ کیا کہ سسرال والوں کے ٹکڑوں پر پڑے رہیں ۔ جب ان کی شادی ہوئی غالباً پندرہ روپے کے ملازم تھے ۔ اسی میں الگ الگ ایک کُھنڈ لالے کر رہتے تھے ۔ میں نے بڑی بوڑھیوں سے سنا ہے کہ ان کے گھر میں صرف ایک ٹوٹی ہوئی جوتی تھی ۔ کبھی بیوی ان لیتروں کو ہلگا لیتیں کبھی میاں۔ Page #  78

سبق نمبر 13 :

 ڈاکٹر گلبرک مہم جو آدمی ہیں ۔ برسوں وہ گرین لینڈ جا کر اسکیموؤں کے ساتھ رہے ۔ ان کی زبان اور معاشرت اختیار کی ۔ انھی کا سا بے نمک کھانا کھاتے رہے ۔ یہی مچھلی ' ریچھ کا گوشت وغیرہ ' برف کے جھونپڑوں میں قیام کیا اور پھر یہ کتاب لکھی ۔ اب میاں بی بی ایشیا اور مشرق بعید کے دورے پر نکلے تھے ۔ کینیا ' ہندوستان ' تھائی لینڈ اور نیپال ہوتے ہو ئے پاکستان آئے تھے ۔ اب کابل اور تہران ہو کر وطن واپسی کا پرو گرام تھا۔Page # 83

حکومت کے محکمے اور ادارے سرکاری مطعبوں میں کتابیں چھاپتے ہیں۔ ان کی بھی مکمل تعداد پورے ملک میں پانچ ہے۔ پرائیویٹ پریس کوئی نہیں ہے، اول تو ان حالات میں کوئی شخص کچھ لکھنے کا حوصلہ نہیں کرتا اگر کوئی مرزا غالب یا فیض احمد فیض پیدا ہو بھی جائے تو ازراہِ قانون اسے حکومت کو عرضی دینی چاہیے کہ بندے کی یہ تالیف لطیف زیور طبع سے آراستہ کی جائے۔ وہ ٹھوک بجا کر (کسی کام میں جلدی نہیں کی جاتی) دیکھیں گے کہ ہاں کوئی مضائقہ نہیں تو حکم ملے گا کہ اچھا چھاپے دیتے ہیں۔ کاغذ، کتابت، طباعت کے پیسے لاؤ اور جب چھپ جائے تو جہاں جی چاہے، جیسے جی چاہے بیچو۔ Page # 85

 

سبق نمبر 14 :ایوب عباسی

 مجھ پر ' میرے بچوں پر ' میرے دوستوں پر اور میرے خاندان پر جان چھڑ کتے تھے ۔ خوشی کی بات ہو تو ایوب صاحب سب سے پہلے موجود اور سب سے زیادہ خوش ۔ رنج و ترود کا موقع ہو تو سب سے پہلے حاضر ۔ بھا گے بھاگے پھر رہے ہیں ' کسی کو خاطر میں نہیں لاتے ؛ یا ہر شخص کی خوشامد کر رہے ہیں ۔ خوشی میں ہر طرح کے جملے سر کر رہے ہیں اور اپنی مسرت کا طرح طرح سے اظہار کر رہے ہیں ۔ رنج و مایوسی کا موقع ہو تو ایک حرف زبان پر نہیں ' نہ تسکین کا ' نہ تقویت کا ' چپ چاپ بیٹھے جائزہ لے رہے ہیں یا محبت و ہمدردی سے بے اختیار ہو کر منہ تک رہے ہیں ۔  Page # 90

ایوب صاحب بد دل نہ ہوں۔ آپ کا کوئی قصور نہیں، قصور ہے تو صرف اتنا کہ آپ خوش حال اور نیک نام کیوں ہیں۔ ہمارے آپ کے اَعِزہ کے دلوں سے نیکی اور فیاضی اٹھا لی گئی ہے۔ اغیار کو تو یہ مسرور اور بافراغت دیکھ کر خوش ہوں گے اور فخر کریں گے، لیکن اپنوں کو کھاتا پیتا یا ہنستا بولتا دیکھ کر غم و غصہ کے انگاروں پر لوٹنے لگیں گے۔ یہ اپنے کھاتے کماتے عزیز کو غاصب سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آپ نے اُن نعمتوں پر مخالفانہ کر رکھا ہے جو بہ صورت دیگر ان کے قبضہ میں آتیں۔ Page # 91

ہم سب کی زندگیوں میں محروم کے گھل مل جانے کا راز یہ تھا کہ اُن میں بظاہر کوئی بات غیر معمولی نہ تھی ۔ وہ غیر معمولی قابلیت کے آدمی نہ تھے ' دولت مند نہ تھا ' کچھ بہت ذہین بھی نہ تھے ۔ نہ انھیں توڑ جوڑ آتا تھا ' نہ خوش پو شاک ' نہ خوش گفتار ' نہ خوش باش ' نہ رنگین و رعنا ۔ وہ معمولی آدمیوں سے بھی زیادہ معمولی تھے ۔ پھر بھی وہ ایسے تھے کہ اب ہم میں ویسا کوئی اور نہ اب ڈھونڈے سے بھی کوئی ایسا ملے ۔ Page # 89

 

سوال نمبر 4 : اہم ترین خلاصے

مناقب عمر بن عبدالعزیز

محسن الملک

پہلی فتح

ہوائی

مولوی نذیر احمد دہلوی

ایوب عباسی

مولانا ظفر علی خان

قرطبہ کا قاضی

 

سوال نمبر 5 : تمام نظموں کے خلاصے کرنے ہیں ، سوائے قطعات کے

 

سوال نمبر 6 : مضامین

رحمتہ للعالمینﷺ

مسئلہ کشمیر اور اس کا حل

محنت کی برکات

تعلیم نسواں کی ضرورت اور اہمیت

سائنس کے کرشمے / موبائل فون کے فوائد و نقصانات / سائنس اور اکیسویں صدی/سائنس اور ہم

حب وطن اور اس کے تقاضے

سیلاب کی تباہ کاریاں

پاکستان میں توانائی کا بحران

منشیات کے استعمال کی وجوہات اور سدباب

پانی کا بحران..... ایک اہم قومی مسئلہ

 

سوال نمبر 7 : خطوط

اپنے چھوٹے بھائی کو بری صحبت سے بچنے اور پڑحائی میں دلچسپی لینے کا خط لکھیں۔

اخبار کے مدیر کےنام خط لکھیں جس میں موجودہ سیاسی حالات پر اظہار خیال کیجئے۔

اپنے چھوٹے بھائی کو خط لکھیں، جس میں اسے سگریٹ نوشی سے بچنے کی تلقین کیجئے۔

اپنے دوست کے نام خط لکھیے جس میں کسی تفریحی مقام کی سیر کا حال لکھیں۔

دوست کے نام اس کی والدہ کی وفات پر تعزیتی خط لکھیں۔ /سہیلی

اخبار کے ایڈیٹر کے نام معاشرےمیں بڑھتے ہوئے جرائم کے بارے میں خط لکھیے۔

چھوٹے بھائی کے نام خط لکھ کر اسے تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم نصابی /غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی تلقین کیجئے۔

اخبار کے مدیر کے نام خط لکھیں، جس میں بڑھتی ہوئی افراتفری اور لاقانونیت کے بارے میں آگاہ کیجئے۔

 

سوال نمبر 7 : آپ بیتی

ایک پھٹے پرانے کوٹ کی آپ بیتی

ایک گلاب کے پھول کی آپ بیتی

ایک شکستہ حال کرسی کی آپ بیتی

ایک پرانی کتاب کی آپ بیتی

ایک شکستہ عمارت کی آپ بیتی

 

Comments

Popular posts from this blog

Islamiyat Guess Paper 2023 - 1st Year

Pak. Study Guess Paper (New Book) 2023