Freedom of Speech and Islam
آزاذی اظہار رائے اور اسلام
آج کل اسلام کے خلاف لبرل طبقات ، کفار اور خاص کر
تنظیمات آزادی نسواں یہ بات کہتی عام نظر آتی ہیں کہ اسلام آزادی اظہار رائے کا حق
نہیں دیتا اور ایک جبر و زیادتی کے نظام کو ترقی دیتا ہے ۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ ان کا اعتراض کیا واقعی حق پر مبنی
ہے ؟ یا ان کا مقصد صرف عام اور سادہ لوح مسلمانوں کو ، جن کو خود اپنے اسلام کا
تعارف نہیں، اپنی باتوں میں پھسلا کر اسلام کے خلاف ہی ان مسلمانوں کو استعمال
کرنا ہے؟
آج سے چودہ سو سال پہلے کی بات کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں
کہ اس وقت معاشرے میں کیا نظام رائج تھا اور وہاں آزادی اظہارِ رائے موجود تھی یا
نہیں؟
ارے ارے ! رکیے ذرا ، ذرا ٹھہرئیے ۔ اب یہاں یہ اعتراض
مت کیجیے گا کہ چودہ سو سال پہلے کی بات کیوں کرتے ہیں آپ؟۔ اور یہ یاد رکھیے کہ
اس دنیا میں جب بھی کوئی فیصلہ موجودہ حالات کے متعلق کرنا ہو تو تاریخ ہمیں بہتر
سے بہتر لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد دیتی ہے اور ان عناصر سے ہمیں روشناس کرواتی
ہے کہ جو ہمیں آگے چل کر پیش آسکتے ہیں اور صرف یہی ہی نہیں بلکہ یہ بھی بتا سکتی
ہے کہ پریشان کن حالات میں کس قسم کے داؤ پیج کھیلنے سے بچنا ہے اور کیسی
تراکیب اپنانا موزوں رہتا ہے ۔
چلیے آگے بڑھتے ہیں ۔
اگر آپکو چودہ سے سال پہلے سے اعتراض ہے تو یہ لکھنے کی
بجائے ہم یوں لکھ لیتے ہیں کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے ۔امید ہے اب اعتراض جاتا رہے گا
۔
جب ہم کئی صدیوں پہلے کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ (
ان صدیوں کی تاریخ کا جب کہ تمام تہزیبیں اپنی موجودہ شکلوں میں خود کو ڈھالنے کے
لیے کوشاں تھیں۔ اور ہر تہزیب کہیں نا کہیں اپنی ایک علیحدہ پہچان کے ساتھ کچھ
لوگوں کے گروہ میں اپنی پہلی شکلوں میں آخری دم بھر رہی تھیں ) ۔ تو ایک بات تو ہمیں
یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہر جگہ ہر گروہ کا کوئی نہ کوئی سربراہ ہوتا تھا جیسا کہ
انسانی ضرورت سے بھی واضح ہے لیکن وہ سربراہی ایسی سربراہی نہ تھی جیسی آج کی
جمہوری سربراہی ہے بلکہ وہ سر براہی ظلم و جبر کی سربراہی تھی ۔ اور دوسری بات یہ
معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت کا سربراہ ہر قسم کے اختیارات کا منبع بھی ہوتا تھا اور
لوگ اسی کے دین پر ہوتے تھے ، مقولہ مشہور ہے کہ الناس علی دین ملوکھم ( لوگ اپنے
بادشاہ کے دین پر ہوتے ہیں) ۔
اب تاریخ کے اس موڑ سے ایک خطرناک گھاٹی دکھائی دیتی ہے
کہ جس کی تہہ ناجانے کتنی گہرائی میں ہے اور اس میں انسانی لاشوں کا ڈھیر لگا پڑا
ہے اور وہ گھاٹی اپنے اندر اتنی زندگیاں سموئے ہوئے ہے کہ شاید گنتی نہیں کی جاسکتی
۔
جانتے ہیں کہ یہ کس گھاٹی کا ذکر ہے؟ یہ ذکر ہے اس گھاٹی
کا جس میں با شعور لوگ پڑے ہیں ، یہ تذکرہ ہے اس گھاٹی کا جس میں سوال کرنے والے
پڑے ہیں ۔ وہ لوگ پڑے ہیں جنہوں نے اعتراض کیا ، جنہوں نے عقل سے سوچنے کی جرات کی
، جنہوں نے اپنے فیصلے خود کرنے چاہے اور جنہوں نے آزادی اظہارِ رائے کواپنا حق
سمجھا ۔
یہ تاریخ کا وہ دور ہے جس کو آپ بھی بخوبی جانتے ہیں ۔
جن لوگوں کا تذکرہ کیا، یہ اور کوئی نہیں وہی ہیں
جنہوں نے حاکمِ وقت کے فیصلے کی مزمت کی ، جنہوں نے اپنے شعور سے نئی راہوں کی بات
کی ، جنہوں نے فیصلوں کے خلاف یا نظام کے خلاف سوال اٹھانا چاہے ، جنہوں نے اظہارِ
رائے کی آزادی چاہی ۔
اس سب سے واقف تو آپ خود بھی بخوبی ہیں ، لیکن یہاں
سوال یہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس تاریخ کا پہیہ کس نے موڑا؟ کس نے ایسے ظالم بادشاہوں
سے آپ کے بڑوں کو آزادی دلائی ؟ اور کس نے دوبارہ لوگوں میں وہ شعور پیدا کیا
اظہار رائے کا! مزہبی آزادی کا؟
آخر کچھ نا کچھ تو ہوگا نا؟ یا یہی سمجھیں ہم کہ نہیں جی
وقت کے ساتھ انسان کو سمجھ آگئی! اگر وقت کے ساتھ سمجھ آنا ہوتی تو انسانی جان کی
تاریخ اور اس کے اس دنیا میں نظام کی تاریخ تو کروڑوں سالوں پر مبنی ہے. جس انسان
کو شعور کی سمجھ اتنی صدیوں میں نہ آئی ، محض چند صدیوں میں سمجھ گیا!
نہیں نہیں ، یہ بات آپ بھی جانتے ہیں کہ بڑی تبدیلیوں
کے پیچھے وجہ محض اتفاق نہیں ہوتا . بلکہ ایک پورا نظریہ ایک پورا لائحہ عمل اور ایک
پورا عظیم الشان نظام ہوتا ہے ۔ بہر حال ۔ بات یہاں تھی کہ ایسے دور میں
آخر انسان کو دنیا میں کہاں ایک ایسا سنہرا نظام نظر آیا جس کو انسان نے ایسے اپنایا
جیسے صدیوں سے وہ اس کا پیاسا تھا ۔
کونسی ایسی طاقت کا لوگوں نے ادراک کیا کہ جس طاقت کے
سب خواہشمند ہوگئے۔ اور کس نظام نے صدیوں کی ظلم و جبر کی تاریخ کو کچھ سالوں میں
مسل ڈالا !
اگر تو آپ حقیقت پسندی سے تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ
راز بھی ہر قاری پر افشاں ہوتا ہے کہ وہ تبدیلی کی چنگاری ، وہ صدیوں کی تاریخ کو
پلٹ کے رکھ دینے والا نظام ، نظامِ اسلام ہے ۔ اگر آپکو اس بات پر ذرا سا بھی اعتراض
ہے تو ، غور سے تاریخ کا مطالعہ کریں تاکہ آپ کی نظر حقیقیت کی وسعت سے آگاہ ہوسکے
۔
اپنی بات پر واپس آتے ہیں کہ صدیوں کی تاریخ کو بدل کر
اسلام نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس میں ہر شخص کو مکمل مزہبی آزادی حاصل تھی جیسا
کہ قرآن میں اللہ نے فرمایا " دین کو قبول کرنے میں کسی پر کوئی جبر نہیں
" ۔ اسی طرح ایک انتہائی گرے ہوئے معاشرے میں جو کہ صدیوں کی کالی تاریخ لیے
اپنی انتہائی بری شکل تک پہنچا تھا ، اسلام نے اخلاق کی بات کی ، احساسات و جزبات
کی بات کی ، ایک ایسے معاشرے کی بات کی جس میں کوئی ظلم و ستم نہ ہو ایک ایسے نظام
کی بنیاد رکھی جس میں ہر مزہب کے لوگوں میں ان کے مزہب کے مطابق فیصلے کیے جاتے
اور اس معاشرے میں عورت کو ایک ایسا مقام دیا کہ سیاہ تاریخ کی عورتوں نے شاید اس
کا تصور بھی نہ کیا ہوتا یا کیا بھی ہوتا تو شاید بالکل اسی طرح جیسے آج کی بچیاں
پڑیوں کا یا
fairy tales کا کرتی ہیں ۔
ہر منصف اور با اعتدال قاری پر یہ سب حقیقتیں عیاں ہوتی
ہیں ، پھر وہ اپنی فطرت کے مطابق اس کا انکار کرے یا اس کو تسلیم وہ اس کی اپنی
ذات کا فیصلہ ہے ۔ معاشرے کے موجودہ انسانی حقوق کا داعی
اور کوئی نہیں اسلام ہی ہے کہ جس نے صدیوں سے سیاہ ہوتی آئی انسانیت کو یہ عظیم
عزت و وقار کا رخ دیا ۔
مگر افسوس کہ جس نے اج کی عورت کو اس کی موجودہ آزادی
کے حق تک پہنچایا ، آج کے معاشرے کو جس نے اس کی موجودہ آزادی کی صورت تک پہنچایا
اور آج کے لوگوں کو جس نے موجودہ اظہارِ رائے کے حق تفویض کیے ، یہ لوگ اسی پر
زبان درازی کرتے ہیں ۔ اسی محسن کو تکلیف پہنچانا چاہتے ہیں ۔ مگر یہ بات اٹل اور
حقیقی ہے کہ ایک ایسی تہزیب اور ایک ایسا قانون جس نے سینکڑوں صدیوں کی تاریخ کو
بدل کر رکھ دیا اور انسان کو اس موجودہ پر عزم شکل تک پہنچایا ، کبھی دبایا نہیں
جاسکتا اور نہ ہی مسخ ہو سکتا ہے اور نہ ہی اپنی خیرخواہی اور حقیقت پسندی کے اعلیٰ
معیار کو کبھی ترک کر سکتا ہے کیونکہ جیسے پہلے اس نے انسان کو عزت بخشی ، دوبارہ یہی
انسان کو منصف بنائے گا اور موجودہ پر عزم معاشرے کو حقیقت میں انسانیت سکھائے گا
۔
اب وہ اعتراض جو لبرل پسند طبقہ اسلام پر کرتا ہے یا
اپنے ہی دین سے نا واقف لوگ خود اسلام پر کرتے ہیں یا جو اعتراض عورتیں اسلام کے
نظامِ تفویض فرائض و حقوق پر کرتے ہیں ۔ ان کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟
یہ تحریر لکھنے کا مقصد نہ تو کسی کا رد ہے نہ کسی کا
مدعی بننا ۔ مقصد محض سوچ میں ایک تریک پیدا کرنا اور تاریخ کا صحیح مطالعہ کرنے کی
طرف ابھارنا ہے ۔
اور آپ کے لیے یہ سوال باقی ہے کہ یہ آذادی اظہارِ رائے
آپکو کس نے دیا؟اسلام نے یا خود انسانوں کو اپنے فائدے کے لیے مارنے والے جلادوں
نے؟ آپکی
سیاہ تاریخ نے یا پھر سیاہ تاریخ کو بدل کر موجودہ حالات کے لیے راہ ہموار کرنے
والے نظام نے؟ اور کیا اسلام اظہار رائے کے
حق پر پابندی لگا کر معاشرے میں ظلم و جبر کا داعی ہے؟
یا اسلام وہ نظام ہے جس نے تاریخ کی کالی جنگوں کا
خاتمہ کیا، ظلم و جبر کا خاتمہ کا اور ظالم بادشاہوں سے آزادی دلا کر موجودہ دور
تک پہنچایا؟
Comments
Post a Comment
If you have any doubt, Please let me know.