Lahore Main Muhabbat
ناول
: لاہور میں محبت
مصنف : محمد ساجد
مبصر : عمار نعیمی
-------------------------------
ناول
" لاہور میں محبت " محمد ساجد کا پہلا ناول ہے ۔ مصنف نے اس ناول کو اس
سوچ کے زیر اثر لکھا ہے کہ آج کا فکشن ٹائم فریم میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ قاری محدود
وقت میں تحریر کا بیانیہ سمجھنا چاہتا ہے ۔ یہ ناول خاص سوشل میڈیا کی دیوانی نسل
کے لیے لکھا گیا ہے ۔
ناول
" لاہور میں محبت " تاریخ کے ایک پروفیسر کی محبت کی کہانی ہے ۔ جسے
ہندوستان میں رہنے والی ایک لڑکی " سنہری " سے محبت ہو جاتی ہے ۔ سنہری
جب لاہور آتی ہے تو پروفیسر صاحب اسے سارا لاہور گھماتے ہیں اور اس کے ساتھ بے
شمار یادیں بناتے اور اپنی ذہانت سے تاریخی عمارات کی تمام تر تفصیلات بتا کر
سنہری کو متاثر کرتے ہیں اور خود اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں ۔ جب سنہری
واپس اپنے دیس جاتی ہے تو پروفیسر اس کے پیچھے بھارت چلے جاتے ہیں اور اظہار محبت
کے بعد شادی کی دعوت دیتے ہیں لیکن سنہری کا تعلق سکھ مذہب سے ہے اس لیے وہ شادی
کے معاملے میں ٹال مٹول کرتی ہے لیکن وہ بھی پروفیسر کی محبت میں گرفتار ہو چکی
ہوتی ہے ۔ مصنف نے اس مرحلے پر بہت عمدہ جذبات نگاری کی ہے ، ملاحظہ
کیجیے پروفیسر کے الفاظ :
" محبت مذہب ، ماحول ، لباس ، موسم ، رنگ ، امن ، جنگ ، ہار ، اور
جیت کی پابند نہیں ہوتی ۔ محبت ، محبت ہوتی ہے یا کچھ بھی نہیں ہوتی ۔ محبت دلوں
کو فتح کرتی ہے ۔ محبت دل کا سودا ہے جو بازار سے نہیں ملتا ۔ یوسف تو حسن ہے محبت
سوتر کی اٹی ہے ۔ محبت سوتر کی وہ اٹی ہے جو بازار میں نیلام ہونے سے قاصر ہے ۔ یہ
میں نے سنہری سے محبت کر کے جانا ، سنہری سے محبت نے مجھے دانشور بنا دیا ، محبت
کا دانشور "
پھر
ایک دن سنہری کی ماں بتاتی ہے کہ وہ لے پالک ہے اور وہ سکھ نہیں ہے تو اس پر سنہری
کے قدموں تلے سے زمین نکل جاتی ہے اور پروفیسر اس سے کورٹ میرج کے لیے عدالت لے
جاتا ہے جہاں سنہری کا باپ اسے قتل کر دیتا ہے ۔
مصنف
نے تاریخ کے پروفیسر کا کردار بہت محنت سے تراشا ہے لیکن ایک دو جگہوں پر وہ تاریخ
کے پروفیسر کی بجائے ایک متشدد اور متعصب ذہن کا حامل نظر آتا ہے ۔ مصنف نے ناول
میں منظر نگاری پر بہت زیادہ توجہ دی ہے اور حسبِ موقع اور حسبِ حال منظر بیان
کرنے میں بالکل کنجوسی نہیں کی ۔ منظر نگاری کی ایک مثال یہ ہے :
"
ڈھلتا ہوا آفتاب جھیل کے پانیوں میں اپنا عکس چھوڑ رہا تھا ۔ہنسوں کا جوڑا اس کے
ٹھنڈے پانی میں تیر رہا تھا ۔پرندے انجانے دیس سے واپس اپنے آشیانے پر لوٹ رہے تھے
۔ دور ایک کاٹیج سے باہر دو بچے کھیل رہے تھے ۔ ان کی شرارتیں اور باتیں نہ سمجھ
آنے والی تھیں۔ سامنے فٹ پاتھ پر کسی کالج کی ایک لڑکی اور لڑکا ہاتھوں میں ہاتھ
ڈالےدنیا سے بے خبر اپنے من میں گم قہقہے لگاتے جا رہے تھے ۔ وہ کس قدر خوش تھے ،
ان کے چہروں کو دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے انھیں کوئی غم نہ ہو ۔ "
اس
ناول کے کل 80 صفحات اور گیاورہ ابواب ہیں ؛ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ
ناول کس قدر مختصر ہے اور آپ ایک ہی نشست میں اسے مکمل کر سکتے ہیں ۔ محمد ساجد کے
لیے نیک تمنائیں

Comments
Post a Comment
If you have any doubt, Please let me know.