Aakhir Hum Kab Sune'n Ge

 

عنوان :                         آخر ہم کب سنیں گے؟
مصنف :             صارم    زاہد

ہم جب بھی اپنی دل لگی کے لیے ، اپنے شوق کے لیے ، اپنی پسند کے لیے ، اپنی من مانی کے لیے ، اپنی مرضی کی خاطر ، اپنے جنون کے واسطے ، اپنے جذبے کے تحت اور اپنے احساسات میں اس رستے کی طرف جاتے ہیں ، اس راہ کو اختیار کرتے ہیں جو ہمارا بنایا ہوا  ہوتا  ہے ، جو اپنی ان کیفیات سے ہمیں وقتی راحت دیتا ہے تب اس وقت کہیں اندر سے ایک آواز ابھرتی ہیں ، کہیں دل کی گہرائیوں میں ایک بے چینی کی لہر دوڑتی ہے ، کہیں سینے میں ایک سنسناتی سی دستک محسوس ہوتی ہے جو کچھ یوں کہنا چاہتی ہے کہ " اے میرے بندے غم نہ کر " ، " اے میرے بندے تو مجھ سے مدد لے " ، " اے میرے بندے تو کیوں اس آواز کو جھٹلا رہا ہے ، کیوں اسے سننا نہیں چاہتا " اور "اے میرے بندے تجھے کس چیز نے مجھ سے غافل کردیا ہے ؟"

لیکن ہماری عادات کچھ ایسی بگڑ گئی ہیں، ہماری فطرت پر نفسانی لذتوں کی دھول کچھ ایسی جم گئی ہے ، ہمارے ضمیر کو کچھ ایسی چوٹ لگ گئی ہے اور ہم کچھ ایسے اُس آواز سے دور ہوئے ہیں  کہ وہی آواز ہم سے یہ بھی کہہ رہی ہے کہ " تمہارے کان تو ہیں مگر تم ان سے اس آواز کی حقیقت کو سنتے نہیں ،آنکھیں تو ہیں لیکن تم ان سے مظاہر فطرت کا معائنہ کر کے کھوج لگاتے نہیں ۔ " ،  " تمہارے دلوں پر تو مہر لگ چکی ہے " اور " تمہارے دل تو پتھر سے بھی سخت ہو گئے ہیں ".

مگر ہم اس آواز کو سن کر بھی غافل ہیں    اور پھر وہی کر گزرتے ہیں جو ہمارا نفس کہتا ہے ، ہم وقتی راحت کو ابدی سکون پر فوقیت دیتے چلے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ اس وقتی راحت سے بھی راضی نہیں ہو پاتے ۔ پس وہ آواز جو اندر کہیں سے آتی ہے ، وہ بے چینی کی لہر جو دل کو سنسنا دیتی ہے وہ آہستہ آہستہ مدہم ہوتی چلی جاتی ہے ، یہاں تک کہ ہماری فطرت بگڑ جاتی ہے اور ہم ہر وقت اضطراب اور پریشانیوں میں گھر کر رہ جاتے ہیں اور اس نعمت جیسی زندگی کو زحمت میں تبدیل کر لیتے ہیں۔

 اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں کیا وہ وقت دوبارہ مل سکتا ہے ؛  تاکہ ہم صحیح وقت پر اس آواز کو پہچان لیں اور اس کے مطابق ایک ابدی سکون حاصل کریں ۔ اپنے غموں کا تریاق کریں ، اپنی منزلوں کو تلاش کریں ، بے راہروی کو خیر باد کہیں ، مثبت کرداروں کو اپنائیں۔

جب انسان اپنے ضمیر سے اس بابت ہم کلام ہو رہا ہوتا ہے تو اچانک  دل کے کسی گوشے میں ایک ٹھنڈک کا احساس اجاگر کرتی ہوئی آواز آتی ہے کہ   "اگر تم ایمان لے آؤ اس حقیقت پر کہ جسے تم سمجھ چکے ہو اور اپنے عمل کو ، اپنی غلطیوں کو آئیندہ ٹھیک کرلو ، تو ہم تمہیں ایک ایسا شاندار مستقبل عطا کریں گے کہ تم حیران ہوجاؤ گے اور تو اور جو پہلے تم کر چکے ۔ اسے بھی تمہارے لیے راحت کا سامان بنا کر اسی کے تجربات کے ذریعے مظبوط کردیں گے "

مگر تب بھی اس آواز کو ٹھکراتے ہوئے ہم میں سے اکثر ایک دوسری آواز جو کہ نفس امارہ سے آتی ہے کہ   نہیں ، اب تمہارے لیے کوئی راستہ نہیں ، اب کوئی معافی نہیں ، جو تم کر چکے وہ تو ایسا تھا کہ اب تم کچھ اور کر ہی نہیں سکتے ، یہ تو بڑا مشکل کام ہے ، یہ تمہارے بس کا نہیں ، اب اگر تم نے یہاں سے قدم ہٹایا تو یہ جو لوگ جن کو تم نے اپنے ساتھ ملایا اور جن کی خاطر اس سب کو برداشت کیا ، یہ بھی تمہیں قبول نہیں کریں گے اور تم تن تنہا ان آبادیوں میں مارے مارے پھرو گے ، نہ عزت رہے گی نہ مقبولیت ،نہ رزق نہ دولت ،نہ ہی یار اور نہ ہی رشتے دار اور اس سب کے بعد کیا کہیں گے لوگ " کی مانتے ہیں اور دوبارہ اسی ڈگر پر چلتے ہوئے اس بات کے مصداق بن جاتے ہیں کہ

"ان لوگوں کے لیے ان کے اعمال ،خواہشات،تجربات،معاملات اور گناہ ایسے مزین کردیے گئے ہیں کہ دوسری ہر راہ انہیں غلط معلوم ہوتی ہے "

آخر کب ہم اس آواز کو جو کہ اس ذات کی طرف سے آتی ہے جو ہمارا محسن ہے ، جو ہمارا خالق ، مالک ، داتا اور رازق ہے ، سنیں گے ۔ اور کب اس آواز کو جو کہ ہمارے دشمن کی طرف سے آتی ہے جو کہ ہمیں تباہ کردینا چاہتا ہے، سننا بند کریں گے ۔

کیا یہ سلسلہ اتنے تجربات کے بعد بھی یونہی جاری رہے گا ! کیا ہم اپنے رب کی آواز پر ہمیشہ شیطان کی آواز کو فوقیت دیتے رہیں گے! کیا ہم تا قیامت اپنے ابدی دشمن کی تقلید کرتے رہیں گے ؟  اور کیا یہ سوال ہمیشہ باقی رہے گا کہ

آخر کب ہم لوگ اپنے رب کی سنیں گے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

Islamiyat Guess Paper 2023 - 1st Year

Pak. Study Guess Paper (New Book) 2023